تجھے دیکھا جدھر بھی دیکھا
ہمیں گھر کی تبدیلی جن وجوہات کی بنا پر کرنا پڑی ان کا تذکرہ فضول ہے .البتہ اس (موجود ہ ) گھر کا احوال ضرور جانیے..... سب سے پہلے تو قدم اندر رکھنے پر محسوس ہوا گویا کے تہ خانہ ہے. گیراج میں دائیں جانب drawing room اور بائیں جانب wash room اور bath room کو الگ الگ بنایا گیا تھا .داخل ہوتے ہی احساس ہوا کہ time machine نے ہمیں 1806 میں پہنچا دیا ہے(اگرچہ کہ وہ ابھی تک ایجاد نہیں ہوئی) زمین پر خوب صورت بیل بوٹے مغل دور کی یاد کو تازہ کرنے کا سبب بنے.لا تعداد کمرے ،جہاں تک نظر جائے ... یہ کہنا بجا ہو گا ... جہاں میں جا کے ادھر ادھر دیکھا تجھے دیکھا جدھر بھی دیکھا کیا شہنشاہی ماحول تھا ....ذکرکرنے لگوں تو زبان تھک جائے . کمروں میں موجود دیوار کے ساتھ بنی ساختوں میں یقیناً بادشاہ خود بیٹھتا ہو گا اور دونوں اطراف میں بنی جگہوں میں اس کے چہیتے غلام کھڑ ے ہو کر باد صبا کے جھونکے جھاڑتے ہوں گے.زمین پر موجود خوش قسمت خاک 1806 سے وہیں تھی جس میں پاپا کے دادا کے دور کی choclates اور candies کے wrappers موجود تھے .ہوسکتا ہے بادشاہ فارغ اوقات میں پان کی بجاۓ ایسی چیزوں کا شوقین رہا ہو . پانی کی فراہ...